Friday, July 23, 2021

قسط نمبر 40 - سلطان جلال الدین محمد خوارزم شاہ منبکرنی - شیخ محمد حیات

 Molana-620x410


 

۵ - الخوافی:
شہاب الدین الخوافی، سلطان محمد کے درباری علما میں سے تھا۔ وہ تمام عقلی اور نقلی علوم میں اپنے دور کے ماہرین میں شمار ہوتا تھا۔ چنانچہ خوارزم کے پانچ کالجوں میں مختلف اوقات میں مختلف علوم کی تدریس پر مقرر تھا۔ اس نے جامع مسجد شافعیہ سے ملعحق ایک نہایت عمدہ لائبریری کا اضافہ کیا تھا۔ یہ اس کی ذاتی لائبریری تھی اور اس کا مقابلہ نہیں کرسکتی تھی۔

جب مغلوں نے خوارزم پر حملہ کیا تو الخوافی کو بصد حسرت ویاس اپنی اکثر کتب وہیں چھوڑ کر خوارزم سے بھاگنا پڑا اور اپنے ساتھ وہی کتابیں لے جاسکا جو حد درجہ کمیاب اور خوافی کو بھی جان سے بھی زیادہ عزیز تھیں۔ چنانچہ جب وہ زندہ رہا، کتابوں کے ضائع ہوجانے کا کانٹا اس کے دل میں کھٹکتا رہا۔
خوافی نے خوارزم سے بھاگ کر نسا میں پناہ لی تھی۔

زیادہ عرصہ نہیں گزرنے پایا تھا کہ نسا پر بھی مغلوں کا قبضہ ہوگیا اور اس داروگیر میں شہاب الدین مارا گیا اور اس کی نایاب کتابوں کا ذخیرہ لوٹ لیا گیا۔ احمد النسوی سلطان جلا الدین کا سوانح نگار ان دنوں نسا میں تھا۔ جب اسے اس افسوسناک حادثے کا علم ہوا تو اس نے ان عملی جواہر کو تباہی سے بچانے کے لیے لوگوں سے درخواست کی کہ خوافی کی کتابیں جن لوگوں کے پاس ہیں وہ رضاکارانہ طور پر واپس کردیں تاکہ انہیں تباہی سے بچایا جاسکے۔

اس اپیل کا خاطر خواہ اثر ہوا اور اہلِ شہر نے اکثر وبیشتر کتب واپس کردیں۔ لیکن النسوی کو کوئی اندازہ نہ تھا کہ خود اسے کیا پیش آنے والا ہے اور واقعاتِ زمانہ کی رفتار کل کلاں کیا ہوگی۔ چنانچہ زیادہ وقت نہیں گزرنے پایا کہ النسوی کو اپنا تمام سازوسامان وہیں چھوڑ کر نسا سے نکلنا پڑا۔ بعد میں جب غیاث الدین پیر شاہ نے جو سلطان جلال الدین کا سوتیلا بھائی تھا، نسا پر اہلِ شہر کی مرضی کے خلاف قبضہ کرلیا تو شر پسندوں نے کتاب خانے کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور تمام کتابیں لوٹ لی گئیں۔

۱
تذکرہ نگاروں نے الخوافی کی کسی علمی تصنیف کا ذکر نہیں کیا۔
۱۔ السیرہ : ۴۹، ۱۰۶ -
فخرالدین رازی:
امام فخرالدین رازی اپنے علمی کارناموں اور بے پناہ صلاحیتوں کی بنا پر اس عہد کے گلِ سرسبد تھے۔ ان کا پورا نام ابو عبداللہ محمد بن عمر بن حسین بن حسن بن علی تھا اور آپ کا سلسلہٴ نسب حضور اکرم ﷺ کے خلیفہٴ دوم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جاملتاتھا۔

امام کے والد ابو القاسم ضیاء الدین عمر اپنے عہد کے فصیح البیان خطیب اور نہایت اعلیٰ پائے کے مقرر تھے۔ نیز وہ جلیل القدر عالم، بلند پایہ ادیب، محدث اور ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ امام بہ مقام رے ۴۵ - ماہ رمضان ۵۴۳ ھ / ۱۱۴۹ ع کو پیدا ہوئے۔ جب ذرا بڑے ہوئے تو اپنے والد ماجد کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کیا۔ اور جب ان کی وفات ہوئی تو ابتدائی علوم کے علاوہ وہ فقہ اور علم کلام کی تحصیل سے فراغت پاچکے تھے۔

والد کی وفات کے بعد وہ علامہ کمال سمنانی کے، جو اس دور کے مشاہیر علماء میں سے تھے، حلقہٴ درس میں شامل ہوگئے اور علم فقہ کی بعض اصولی کتب ان سے پڑھیں۔
یہ وہ زمانہ تھا کہ لوگ دیوانہ وار یونانی فلسفے کے پیچھے بھاگے جارہے تھے اور اس کے ظنی نظریات کی اشاعت زوروں پر تھی۔ نتیجتاً بعض کم فہم اسلامی عقائد کا مذاق اڑاتے تھے۔ امام نے بھی دیکھا دیکھی اس شیعہ، علم کے حصول کی طرف توجہ کی اور رے کے سب سے بڑے فسلسفی مجد جیلی کے شاگردوں میں شامل ہوگئے۔

جب بعد میں علامہ جیلی رے سے ہجرت کر کے مراغلہ چلے گئے تو امام بھی ان کے ساتھ تھے اور اس وقت تک وہیں قیام پذیر رہے جب تک کہ پورے طور پر علم کلام اور فلسفے میں مہارت نہ پیدا کرلی۔
تحصیل علم کے بعد دوسرا مرحلہ حصول روزگار کا تھا۔ چنانچہ امام کو بھی یہ فکر دامن گیر ہوئی اور استاد سے رخصت حاصل کر کے تلاش معاش میں نکل کھڑے ہوئے۔ چونکہ امام کی مالی حالت بہت کمزور تھی جس کی وجہ سے وہ بہت اداس اور آزردہ رہتے تھے۔

اقتصادی بدحالی کے علاوہ وہ ذہنی طور پر بھی پریشان رہتے تھے۔
اس پریشانیِ خاطر کی وجہ یہ تھی کہ یونانی فلسفے کے زیر اثر اسلام میں متعدد فرقے پیدا ہوگئے تھے اور ہر فرقے کو اپنے برحق ہونے کے لیے دوسرے فرقوں سے مناظرہ کرنا پڑتا۔ اور پرزور دلائل سے ثابت کرنا پڑتا کہ صرف ان کا فرقہ ناجی ہے اور باقی سب راہِ راست سے بھٹکے ہوئے ہیں۔

امام کے لیے بھی اس طرز عمل کو اپنائے بغیر چارہ نہ تھا۔ اور چونکہ عنفوانِ شباب تھا اور فلسفہٴ یونان کے رموزو عوامض سے باخبر تھے اس لیے اپنے مباحثوں اور منظروں میں وہ ہمیشہ حریف کو ہرانے میں کامیاب ہوجاتے۔ اس سے بلاشبہ امام کے ہوا خواہوں کو خوشی حاصل ہوتی اور خود امام بھی جامے سے پھولے نہ سماتے، لیکن ایسی کامیابیوں کا رد عمل بعض اوقات ازبس تکلیف دہ ہوتا۔

شکست خوردہ حریف اور اس کے پیروکار امام کے دشمن ہوجاتے اور کسی اذیت اور دکھ سے دریغ نہ کرتے۔ چنانچہ ان پریشانیوں کی وجہ سے امام اکثر دلگیر رہتے۔ خوارزم میں معتزلیوں کا بڑا زور تھا۔ ایک دفعہ امام کو ان سے مباحثہ کرنا پڑا، جس میں کامیابی تو امام کے حصے میں ہی آئی لیکن معتزلی کی جان کے لاگو ہوگئے اور امام کو بادلِ نخواستہ خوارزم سے بھاگنا پڑا۔

وہاں سے ماوراء النہر گئے لیکن بدقسمتی سائے کی طرح ساتھ ساتھ تھی۔ مخالفوں نے وہاں بھی چین سے نہ بیٹھنے دیا اور امام مجبور ہو گئے کہ اپنے وطن کو واپس چلیں۔
رے میں ایک طبیب تھا بڑا دولت مند اور خوشحال۔ جن دنوں امام واپس وطن پہنچے، طبیب مرض الموت میں مبتلا تھا۔ اس کی صرف دو جوان لڑکیاں تھیں۔ جب اسے امام کی واپسی کا علم ہوا تو اس نے امام کو بلا کر کہا کہ چونکہ میری کوئی نرینہ اولاد نہیں جو جائداد کی وارث بن سکے اور نہ کوئی اور عزیز اور رشتہ جار ہی ایسا ہے جو میری وفات کے بعد لڑکیوں کا سہارا ہوسکے اس لیے میں چاہتا ہوں کہ آپ میری لڑکیوں کی شادی اپنے بیٹوں سے کر کے تمام جائیداد کو اپنے تصرف میں لے لیں ے ہم پہلے لکھ آئے ہیں کہ امام کی مالی حالت حد درجہ سقیم تھی۔

اس عجیب وغریب اتفاق سے امام کے شب وروز بدل گئے اور وہ آناً فاناً اتنی کثیر دولت کے مالک ہوگئے جو ان کے وہم وگمان میں بھی نہیں آسکتی تھی۔
ابھی تک کسی شاہی دوبار تک امام کی رسائی نہیں ہوسکی تھی۔ لیکن جب خوشحالی نے قدم چومے اور امام کو جم کر بیٹھنا نصیب ہوا تو شہرت اور ناموری کو پر لگ گئے اور اڑتے اڑتے یہ خبر فیروز کوہ کے شاہی دریار تک جاپہنچی۔

چنانچہ سلطان غیاث الدین غوری نے امام کو دربار میں طلب کر کے ہرات کے کالج کا پرنسپل مقرر کردیا۔ سلطان خود شافعی مسلک کا پیرور تھا۔ وہ بڑا فیاض، علم دوست اور دین دار انسان تھا۔ چنانچہ اس نے اپنی قلمرو میں مکتبوں اور مدرسوں کا جال بچھا دیا تھا، جہاں دور دراز سے طلبہ حصولِ علم کے لیے آتے تھے اور کامیاب ہو کر واپس لوٹ جاتے تھے۔ اساتذہ کے انتخاب میں احتیاط برتی جاتی تھی اورصرف وہی لوگ اس منصب پر مامور ہوتے تھے جو صحیح معنوں میں اہل اور مستحق ہوتے تھے۔

چنانچہ امام کا انتخاب بھی اسی اصول کے تحت عمل میں آیا تھا۔
امام ہرات میں پہنچے تو ان کی شہرت نے ملک ملک کے طالبانِ علم کو جمع کردیا۔ لیکن چونکہ اس شہر میں قرامطہ کا بڑا زور تھا اس لیے وہ امام کی مخالفت پر تل گئے جس سے امام کے اوقات میں پھر سے تلخی پیدا ہوگئی اور وہ اکثروپیشتر پریشان رہنے لگے۔ جوں جوں باہمی تعلقات میں تلخی بڑھتی گئی، امام کی پریشانیوں میں اضافہ ہوتا گیا۔

ایک موقع ایسا بھی آیا کہ امام اور قرامطہ میں مباحثہ ٹھن گیا جس کا انجام حسبِ معمول لڑائی جھگڑے پر ہوا اور انتظامیہ کے لیے ایک اچھا خاصا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ جب اس افراتفری کی اطلاع سلطان کو موصول ہوئی تو اس نے فیروز کوہ میں اپنے سامنے ایک مباحثے کا انتظام کیا۔ مگر اس مباحثے کا بھی وہی حشر ہوا جو اس سے پہلے ہرات میں ہوچکا تھا۔ اور اگر سلطان مداخلت نہ کرتا تو امام کے لیے حالا نازک تو ہوجاتے۔

اس موقع پر امام بے حد جذباتی ہوگئے۔ انہوں نے سلطان کے سامنے قرمطہ کے مباحث کو برا بھلا کہا جس سے اس کے پیروکار بھڑک اٹھے اور امام پر پل پڑے لیکن وہ حسنِ اتفاق سے بچ گئے اور واپس ہرات بھیج دئیے گئے۔
غیاث الدین کی وفات کے بعد شہاب الدین بھائی کا جانشین ہوا تو امام کی قدرومنزلت میں کوئی فرق نہ آیا۔ لیکن چونکہ ہرات کی آبادی میں قرامطہ کی اکثرت تھی وہ امام کے سخت مخالف تھے اس لیے امام اطمینان کے ساتھ تھے لہٰذا شرپسندوں نے مشہور کردیا کہ شہادت میں امام بھی ملوث ہیں اور یہ سازش انہی کے ایما پر پروان چڑھی ہے۔

جب اس افواہ کا چرچا عام ہوا تو اہلِ ہرات بے قابو ہوگئے اور امام کے مدرسے پر حملہ کردیا تاکہ امام کو ٹھکانے لگا دیں۔ حسنِ اتفاق سے سلطان شہید کے ایک وزیر کو، جو امام کے معتقدین سے تھا، بروقت اطلاع مل گئی۔ وہ موقع واردات پر پہنچ گیا اور بیچ بچاؤ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب غوری قلمرو کے طول وعرض میں قرامطہ کا طوطی بول رہا تھا۔

آبادی کی اکثریت اسی فرقے سے منسلک تھی اور اراکینِ سلطنت میں بھی ایک معتد بہ تعداد قرامطہ کی ہم نوا تھی۔ ان حالات میں امام کے لیے سوائے ترکِ ملازمت کے اور کوئی چارہٴ کار نہ رہا تھا، کیونکہ قرامطہ موقع کے منتظر تھے اور امام اور ان کے ہوا خواہ ان کے ناپاک ارادوں سے بے خبر تھے۔
امام نے ہرات سے رخت سفر باندھا تو خوارزم کا رخ کیا۔

سلطان محمد تخت خوارزم پر متعکن تھا اور یہ خاندان بڑی تیزی سے ترقی کی منازل طے کر رہا تھا۔ سلطان فیاض اور علم پرور انسان تھا۔ اہل علم دور دور سے کھنچے چلے آرہے تھے۔ امام کے علم وفضل کی شہرت سلطان کے کانوں تک پہنچ چکی تھی اور وہ دل سے خواہاں تھا کہ کسی طرح امام ہرات سے ہجرت کر کے اس کے یہاں آجائیں۔ جب حسن اتفاق سے سلطان کی یہ خواہش پوری ہوگئی اور سلطان کو معلوم ہوا کہ امم خوارزم میں پہنچ گئے ہیں تو دربار میں طلب فرمایا۔

امام حاضر ہوئے تو بڑے احترام سے پیش آیا اور شاہزادوں کا اتالیق مقرر کردیا۔ اس خدمت کے علاوہ امام درس وتدریس اور خطابت کے فرائض بھی سرانجام دیتے تھے۔
بہت جلد امام نے اپنے علم وفضل کی بدولت خواص اور عوام میں بڑی مقبولیت حاصل کرلی اور اس عظیم ابھرتی ہوئی سلطنت کے شیخ الاسلام بنا دئیے گئے۔ اگرچہ اب ان کی مصروفیات بہت بڑھ گئی تھیں لیکن انہوں نے درس وتدریس اور خطاب کے فرائض سے علیحدہ ہونا پسند نہ کیا اور حسب سابق یہ دونوں کام پوری دلجمعی اور الہاک سے سرانجام دیتے رہے۔

امام رازی نے تریسٹھ برس کی عمر میں ۶۰۶ھ / ۱۲۰۹ ع میں وفات پائی۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ قرامطہ نے امام کے کھانے میں زہر ملا دیا تھا جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔
بقول یاقوت حمری، امام فخر الدین رازی ہندوستان میں بھی آئے تھے، واللہ اعلم
امام بے پناہ، قابلیتوں کے مالک اور اکثر علومِ متداولہ میں مہارتِ تامہ رکھتے تھے۔

چنانچہ ان کی کتابوں کے مطالعے سے بہ آسانی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ جس موضوع پر بھی انہوں نے قلم اٹھایا، تحقیق کا حق ادا کردیا۔ ان کی کم وبیش اسّی تصنیفات کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں سے بعض طبع ہوچکی ہیں اور شائقینِ علم کے کتاب خانوں کی زینت ہیں۔ بعض مسودات کی صورت میں محفوظ ہیں اور کچھ ایسی بھی ہیں جن کے صرف نام ہی باقی رہ گئے ہیں۔

تفصیل حسبِ ذیل ہے:
۱۔ تفسیر کبیر: یہ قرآنِ حکیم کی تفسیر ہے جو بارہ ضخیم جلدوں پر مشتمل ہے۔ امام نے کتاب کا نام”فتوح الغیب“ رکھا تھا۔ لیکن امام کے تجویز کردہ نام کو قبولِ عام کی عزت نصیب نہ ہوسکی۔ تفسیر کا بیشتر حصہ امام کے اپنے قلم سے نکلا ہے۔ لیکن کتاب ابھی مکمل نہ ہونے پائی تھی کہ امام فوت ہوگئے۔ آخر ان کے ایک شاگرد شہاب الدین بن خلیل نے استاد مرحوم کے مشن کی تکمیل کا بیڑا اٹھایا۔

چنانچہ باقی ماندہ حصہ انہوں نے لکھا اور کتاب مکمل کردی۔
۲۔ اسرار التنزیل وانوار التاویل: بقول قفطی یہ بھی قرآن حکیم کی تفسیر ہے۔
۳۔ مفاتیح العلوم: یہ سورہٴ فاتحہ کی تفسیر ہے دو جلدوں میں۔
۴۔ تفسیر البقرہ: اس میں سورہٴ بقرہ کی تفسیر بیان کی گئی ہے۔
۵۔ تفسیر اخلاص: سورہٴ اخلاص کی تفسیر ہے۔
۶۔ اللوامع البینات: اس کتاب میں اسماء حسنیٰ پر مفصل بحث ہے۔

۷۔ المحتصل: اس میں اصولِ علمِ کلام کا بیان ہے۔
۸۔ الاربعین فی اصول الدین: یہ کتاب فارسی میں ہے اور اس میں چالیس اہم اصول علم کلام پر بحث کی ہے۔
۹۔ کتاب المعالم: اس میں فقہ اور علم کلام کے اصول بیان کیے گئے ہیں۔
۱۰۔ الخمسین فی اصول الدین: اس میں علم کلام کے پچاس اہم مسائل پر بحث کی ہے۔ کتاب فارسی زبان میں ہے۔
۱۱۔

نہایة العقول: اس میں علم فقہ کے بعض اہم مسائل پر گفتگو کی ہے۔
۱۲۔ کتاب القضاء والقدر: تقدیر کے بارے میں اسلامی نقطہٴ نظر کی وضاحت کی گئی ہے۔
۱۳۔ اساس التقدیس: امام نے یہ کتاب سیف الدین ابو بکر بن ایوب کے نام سے معنون کی تھی۔ جس میں اس نے امام کو ایک ہزار دینار عطا کیے تھے۔
۱۴۔ اللطائف الغاثیہ: یہ کتاب چار ابواب پر مشتمل ہے جن میں علم کلام، فقہ، اخلاق اور دعا پر بحث کی ہے۔

یہ کتاب بھی فارسی زبان میں ہے۔
۱۵۔ عصمة الانبیاء: اس کتاب میں عصمتِ انبیاء پر گفتگو کی ہے اور ان مذاہب بالخصوص یہود پر تنقید کی ہے جن کی کتاب میں بعض اکابر انبیاء سے ایسے گناہوں کا انتساب کیا گیا ہے جن کا صدور کسی عام شریف آدمی سے بھی متعذر معلوم ہوتا ہے، چہ جائیکہ انبیا علیہم السلام جو عوام کی ہدایت اور رہبری کے لیے مبعوث ہوتے ہیں، ایسے قبیح فواحش کا ارتکاب کریں۔

۱۶۔ المطالب العالیہ: اس کتاب کا موضوع بھی علم کلام ہے۔ یہامام کی آخری تصنیف ہے اور تین جلدوں پر مشتمل ہے۔
۱۷۔ الرسالة فی النبوة: اس رسالے میں منصب نبوت پر بحث کی گئی ہے جو دین اسلام کی فضیلت کے بارے میں ایک اہم دستاویز ہے۔
۱۸۔ کتاب الملل والنحل: علامہ شہرستانی کے تتبع میں لکھی گئی ہے جس میں مختلف مذہب اور فرقوں کے عقائد اور عبادات وغیرہ کا ذکر کیا گیا ہے۔

۱۹۔ تحصیل الحق: اس کتاب کا موضوع بھی علمِ کلام کے بعض اہم مسائل ہیں۔
۲۰۔ البیان والبرہان: اس کا موضوع بھی علم کلام ہے۔
۲۱۔ المباحث العمادیہ فی المطالب المعادیة۔
۲۲۔ تہذیب الدلائل وعیون المسائل۔
۲۳۔ ارشاد الانطار الی لطائف الاسرار۔
۲۴۔ اجوبة المسائل النجاریة۔
۲۵۔ کتاب الزبدة۔
۲۶۔ کتاب الخلق والبعث۔

۲۷۔ کتاب المحصول فی علم الاصول: یہ اچھی خاصی ضخیم کتاب ہے جس کا موضع علم فقہ ہے۔
۲۸۔ تنبیہ الاشارہ: اس کا موضوع بھی فقہ ہے۔
۲۹۔ الملخص: کتاب کا موضوع فلسفہ اور منطق ہے۔
۳۰۔ الرسائلالکمالیہة فی الحقائق الالٰہیہ: اس کتاب: کا موضوع علم کلام ہے جس میں شیعہ الہبات سے بحث کی گئی ہے۔
۳۱۔ حدائق الانوار فی دقائق الاسرار۔
۳۲۔ المباحث المشرقیہ۔










SHARE THIS

Author:

urdufundastory.blogspot.com is the first of its kind of trendsetting venture existent in Pakistan. It is for the first time in the history of this nation that a large scale project of such nature, evolved from an extraordinarily revolutionizing concept to a practical fulfillment.

0 Comments: