Tuesday, July 20, 2021

قسط نمبر 23 - سلطان جلال الدین محمد خوارزم شاہ منبکرنی - شیخ محمد حیات




ابوالفتح ایل ارسلان(۵۶۱۱ تا ۱۱۷۲) اتسز کے دو بیٹے تھے، ایل ارسلان اور سلطان شاہ۔جب اتسز نے وفات پائی تو ایل ارسلان بمقام جند بطور صوبہ دار متعین تھا۔ جونہی باپ کی وفات کی خبر ملی، فوراً کوچ کیا اور خوارزم پہنچ کر کاروبارِ سلطنت میں محو ہو گیا۔ چونکہ چھوٹے بھائی کی طرف سے مطمئن نہ تھا اس لیے اس بے گناہ کی آنکھیں نکلوا کر قید کر دیا جہاں وہ تین دن کے بعد مر گیا۔ کئی ایسے امرا بھی مروا دیے گئے جن کی وفاداری اسے مشتبہ معلوم ہوئی یا جن کے بارے میں اہل غرض نے کہہ سن کر بدگمانی پیدا کر دی تھی۔ یہ ظالم رسم ایشیائی درباروں کا دستورالعمل تھی۔ جب بھی کوئی حکمران مرتا، امرا کو ایک دوسرے کے خلاف انتقام لینے کا بہانہ ہاتھ آ جاتا اور کئی بے گناہ انسان موت کے گھاٹ اتار دیے جاتے۔ خوارزم شاہ کی رسمِ تاجپوشی ۵ رجب ۵۵۱ ہجری مطابق ۲۴ اگست ۱۱۵۶ عیسوی کو ادا کی گئی۔ اس موقع پر اس نے امرا اور سپاہ کی دل جوئی کے لیے جاگیریں عطا کیں اور تنخواہوں میں اضافہ کیا، تاکہ نئے نظام سے انہیں ہمدردی پیدا ہو جائے سلطان سنجر مرو میں تھا کہ ایل ارسلان اتسز کی جگہ گدی پر بیٹھا۔ سلطان کی طرف سے جو نمائندے اس تقریب میں شریک ہوئے، سلطان نے ان کی معرفت ایل ارسلان کو شاہی خلعت سے نوازا۔ گویا یہ خلعت سلطان کی رضامندی کا پروانہ تھا جس سے خوارزم شاہ کو بڑی مسرت ہوئی۔ سنجر کی وفات: سلطان جب سے غزوں کی قید سے رہائی پا کر واپس آیا تھا، اس کی صحت خراب رہنے لگی تھی۔ آخر ۱۴ ربیع الاول ۵۵۲ ھ مطابق ۲۶ اپریل ۱۱۵۷ء کو اکہتر برس کی عمر میں فوت ہو گیا۔ ایل ارسلان نے تمام قلم رو میں تین دن تک سلطان کا سوگ منایا۔ سنجر کی وفات کے بعد غیاث الدین محمد بن محمود، جو ملک شاہ کا پڑپوتا تھا، تخت نشین ہوا۔ چونکہ ایل ارسلان صلح پسند حکمران تھا اس لیے اس کی دلی خواہش ہمیشہ یہی رہی کہ سلجوقی دربار سے اس کے تعلقات استوار رہیں اور بہت حد تک وہ اس میں کامیاب رہا۔ جب ایل ارسلان حکمران ہوا تو طمغان خاں ابراہیم حاکم سمرقند تھا۔ کچھ عرصے کے بعد وہ فرلوق قبائل کے ہاتھوں قتل ہو گیا اور چغری خان جلال الدین علی اس کا جانشین مقرر ہوا۔ نئے حاکم نے قرلوق قبیلے پر چڑھائی کر کے ان کے حاکم پیفو خان کو قتل کر دیا اور اس کے بیٹوں اور قبیلے کے باقی سرداروں کو سخت اذیتیں پہنچائیں۔ اس قبیلے کا ایک سردار جس کا نام لاچین بیگ تھا، بچ بچا کر خوارزم شاہ کے دربار میں پہنچ کر طالبِ امداد ہوا۔ ہر چند دربار سرقند سے اس کے تعلقات دوستانہ چلے آ رہے تھے، لیکن قرلوق کی امداد کا سہارا لے کر ۵۵۳ ہجری مطابق ۱۱۵۸ عیسوی میں ایل ارسلان نے ایک بھاری لشکر لے کر ماوارالنہر پر چڑھائی کر دی۔ حاکم سمرقند نے جب یہ حالت دیکھی تو اس نے ترکمانوں اور ترکانِ خطا سے امداد طلب کی۔ چنانچہ دس ہزار سپاہی یک ترکمان کی زیرِ کمان والی سمرقند کی مدد کے لیے سمرقند پہنچ گئے۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو ایک ترکمان نے اس خیال سے کہ بلاوجہ خون ریزی نہ ہو، سمرقند کے علماء و فضلا کو خوارزم شاہ کے پاس مصالحت کے لیے روانہ کیا۔ چونکہ ایل ارسلان بھی خواہ مخواہ خون ریزی کا خواہاں نہ تھا، وہ اس شرط پر صلح کے لیے تیار ہو گیا کہ فرلوق قبیلے کی جاگیر واپس کر دی جائے اور گفرتار شدہ سردار رہا کر دیے جائیں۔ یہ شرط مان لی گئی اور خوارزم شاہ واپس چلا گیا۔ سلطان سنجر کی وفات کے بعد سلجوقی دربار اور غزوں میں پھر سے رسہ کشی شروع ہو گئی تھی۔ اگرچہ خوارززم شاہ کے لیے اپنے حدود سلطنت کو وسعت دینے کا نہایت عمدہ موقعہ تھا، لیکن ایل ارسلان نے اس سے کوئی فائدہ نہ اٹھایا۔ کیونکہ سلجوقی دربار کا احترام اسے کوئی ایسی حرکت کرنے کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ اس اثناء میں غزوں کے ایک سردار اختیارالدین ایتاق نے، جو حاکم دہستان تھا، خوارزم شاہ کی بالادستی تسلیم کر لی۔ مگر ۵۵۶ھ/۱۱۶۱ء میں غزوں کے باقی سرداروں نے مل کر اختیار الدین پر حملہ کر دیا۔ وہ بھاگ کر خوارزم میں پناہ گزیں ہوا اور غزوں نے دہستان اور جرجان کو لوٹ کر لوگوں کو ان کے گھروں سے بھگا دیا۔ تاہم کچھ دنوں کے بعد خوارزم شاہ کی مدد سے ایتاق پھر سے اپنی ریاست پر قابض ہو گیا۔ مویدالدولہ غز اور سلطان سنجر کے جانشین کے درمیان جو کشمکش ہوتی چلی آ رہی تھی، اس کا انجام نہایت ناخوش گوار رہا۔ غیاث الدین محمد اور اس کے بیٹے کو ۵۵۷ھ/۱۱۶۲ء میں مویدالدولہ کے ہاتھوں سخت شکست ہوئی۔ دونوں باپ بیٹا گرفتار ہو گئے۔ ان کی آنکھیں نکال دی گئیں اور قید کر دیے گئے۔ اور موید الدولہ نے طوس، بسطام اور دامغان پر قبضہ کر کے ان علاقوں کو اپنے مقبوضات میں شامل کر لیا۔ مرو، بلغ اور سرخیں ابھی تک غروں کے پاس تھے اور اگرچہ سلطان سنجر فوت ہو گیا تھا اور اس کے جانشینوں کو انہوں نے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا تھا، لیکن غز ابھی تک اسے اپنا حاکم اعلیٰ مانتے تھے اور اسی کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا تھا۔ ایل ارسلان موقع کی تاک میں تھا۔ چنانچہ اس نے ۵۵۸ھ/۶۲۔۱۱۶۳ء میں مویدالدولہ کے خلاف، جو ان دنوں نیشا پور میں تھا، چڑھائی کر دی۔ مویدالدولہ چونکہ خوارزم شاہ کے مقابلے کی تاب نہیں لا سکتا تھا اس لیے نیشا پور چھوڑ کر چلا گیا اور شادباخ میں محصور ہو گیا۔ خوارزم شاہ کچھ عرصے تک شہر کو گھیرے پڑارہا لیکن کامیابی کی کوئی صورت نہ نکل سکی۔ چونکہ موید بھی اس حالت سے کچھ خوش نہ تھا اس لیے دونوں مصالحت پر آمادہ ہو گئے اور ایل ارسلان محاصرہ اٹھا کر واپس چلا گیا۔ ۳# اسی دوران اختیار الدین ایتاق اور خوارزم شاہ کے تعلقات خراب ہو گئے۔ چونکہ ایتاق تنہا ایل ارسلان کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا اس لیے اس نے مویدالدولہ سے اعانت کی درخواست کی جو اس نے منظور کر لی۔ اگرچہ دونوں حکمران مل کر بھی خوارزم شاہ کا کچھ نہ بگاڑ سکے اور وہ دہستان فتح کر لینے میں کامیاب ہو گیا لیکن اس سے اتنا فائدہ ضرور ہوا کہ خوارزم شاہ نے ان سے مزید چھیڑ چھاڑ نہ کی۔ ایل ارسلان کی وفات: جب ۵۳۶ھ/۱۱۴۲ء میں سلطان سنجر کو ترکانِ خطا کے ہاتھوں ہزیمت اٹھانا پڑی تھی تو انہوں نے اتسز کی قلم رو پر بھی یلغار کر دی تھی اور چونکہ اتسز ان کے مقابلے کی تاب نہیں لا سکا تھا اس لیے اس نے سالانہ تیس ہزار دینار بطور خراج ادا کرنے کا وعدہ کر کے مفتوحہ علاقے واپس لے لیے تھے۔ یہ رقم باقاعدہ ادا کی جاتی رہی، لیکن جب سلطان سنجر کی وفات کے بعد ایل ارسلان مقابلہٴ طاقت ور دکھائی دینے لگا تو اس نے خراج ادا کرنے سے انکار کر دیا۔ ترکانِ خطا کے لیے یہ صورت ناقابلِ برداشت تھی۔ چنانچہ گور خان ۵۶۷ھ/۱۱۷۲ء میں ایک بڑی فوج لے کر خوارزم پر حملہ آور ہوا۔ ایل ارسلان نے اپنے کمان دار علی ایاز بیگ کو فوج دے کر مقابلے کے لیے بھیجا، لیکن ترکانِ خطا سے لڑنا اس کے بس کا روگ نہ تھا۔ چنانچہ خوارزم شاہی افواج کو شکست ہوئی اور خراج کی رقم ادا کرنے کی حامی بھر لی گئی۔ چونکہ اس لڑائی کے دوران ایل ارسلان کی صحت خراب ہو گئی تھی اس لیے اسی سال رجب/ مارچ کے مہینے میں وہ فوت ہو گیا۔ ایل ارسلان کے سوانح حیات کے سرسری مطالعے سے ہی یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ وہ اپنے بیدار مغز اور دلیر باپ کی خوبیوں سے بہت حد تک بے بہرہ تھا۔ اگر وہ اتسز کی طرح جری اور عاقبت اندیش ہوتا تو سلطان سنجر کی وفات کے بعد خراسان میں جو افراتفری پھیل گئی تھی، اس سے ضرور فائدہ اٹھاتا اور سارے صوبے پر قبضہ کر لیتا۔ بلکہ اس سے تو مقابلہ غز بہتر موقع شناس تھے جو سلطان سنجر کی رہائی کے بعد بھی کئی اضلاع پر قابض رہے اور جب سلطان فوت ہوا تو مرو الخ اور سرخمس ابھی تک ان کے ہی تصوف میں تھے۔ تمام مورخ اس امر پر متفق ہیں کہ ایل ارسلان اتسز کی وفات کے بعد ۵۵۱ھ/۱۱۵۶ء میں تخت نشین ہوا اور اس کا سارا زمانہٴ حکومت سات سال تھا۔ لیکن یہ عجیب اتفاق ہے کہ سب مورخ اس کا سال وفات ۸۔۵۵۷ھ/۳۔۱۱۶۲ء کی بجائے ۸۔۵۶۷ھ/۳۔۱۱۷۲ء لکھتے ہیں۔ قدیم مورخین میں سے کسی نے بھی اس تضاد کی طرف توجہ نہیں کی۔ اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ ترکستان کے فاضل مصنف ڈبلیو۔ برتھولڈ (W.Barthold) اور ”طبقاتِ ناصری“ کے مترجم میجر ریورٹی (Raverty) بھی اس تضاد کی طرف متوجہ نہ ہو سکے اور جو کچھ منقدمین لکھتے چلے آئے تھے انہوں نے بھی عین مین وہی الفاظ نقل کر دیے۔ یہ بات بالکل سمجھ میں نہیں آ سکتی کہ دس سال کے اس طویل زمانے کو کس کھاتے میں ڈالا جائے۔ لین پول نے اپنی مشہور تصنیف Mohammaden Dynastics میں ایل ارسلان کا عہدِ حکومت سترہ سال بیان کیا ہے۔ گو اس لحاظ سے اس تاریخی غلطی کی نشاندہی ہو گئی جو صدیوں سے ہوتی چلی آ رہی تھی اور قابلِ اعتنا مورخین بھی ادھر متوجہ نہیں ہو پائے تھے، لیکن اس سے بھی عجیب تر امر یہ ہے کہ ان دس سالوں کے بارے میں کسی تاریخی کتاب میں بھی واقعات اور حالات کا کوئی ذخیرہ نہیں ملتا۔ بلکہ اس خاموشی سے یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ غالباً یہ دس سال اس خاندان کی تاریخ میں سے اچک لیے گئے تھے۔







SHARE THIS

Author:

urdufundastory.blogspot.com is the first of its kind of trendsetting venture existent in Pakistan. It is for the first time in the history of this nation that a large scale project of such nature, evolved from an extraordinarily revolutionizing concept to a practical fulfillment.

0 Comments: