Friday, July 23, 2021

قسط نمبر 32 - سلطان جلال الدین محمد خوارزم شاہ منبکرنی - شیخ محمد حیات

 Molana-620x410


 

فتح غزنین و فیروز کوہ:
علاء الدین نے امیر ملک کو اسی سال ایک آزمودہ کار فوج دے کر غزنین اور فیروز کوہ کی تسخیر کے لیے نامزد کیا۔ تاج الدین ایلدوز غزنیں کا خود مختار حکمران تھا۔ امیر ملک نے اسے مشورہ دیا کہ وہ غزنین کا علاقہ خوارزم کی قلمرو میں شامل کر کے سلطان کی سیادت قبول کر لے۔ چنانچہ اس نے امرا اور خواتین نے مشورے کے بعد امیر ملک کی بات مان لی۔

ایک ہاتھی سلطان کی نذر گزرانا اور اس کے نام پر خطبہ جاری کر دیا۔ ایک دفعہ تاج الدین حسبِ معمول شکار کو گیا اور قتلغ تگین نامی ایک امیر کو، جو سلطان شہاب الدین غوری کے عہد سے اس کا رفیقِ کار چلا آ رہا تھا، اپنا قائم مقام بنا لیا۔ قتلغ نے تاج الدین کی غیر حاضری میں سلطان کو، جو ابھی تک ہرات میں تھا، شہر پر قبضے کی دعوت دی جو قبول کر لی گئی۔

شہر پر قبضہ ہو گیا اور تاج الدین بھاگ کر لاہور چلا گیا۔
ایک دن سلطان نے قتلغ تگین کو بلا کر دریافت کیا کہ تاج الدین سے اس کے تعلقات کیسے تھے؟ اس نے کہا: ”ہمارے تعلقات بالکل برادرانہ نوعیت کے تھے۔ تاج الدین کی عادت تھی کہ وہ سال میں صرف چار مہینے غزنیں میں قیام کرتا تھا۔ باقی وقت سیرو تفریح اور شکار میں گزار دیتا۔ اس کی غیر حاضری میں ہی سربراہ حکومت ہوتا تھا، بلکہ اس کی موجودگی میں بھی نظم و نسق کا سارا نظام میرے ہاتھ میں ہی رہتا تھا۔

“ سلطان نے سن کر کہا کہ جب تم اپنے دوست، رفیق کار اور محسن کے ساتھ وفا نہ کر سکے تو میں تم پر کیسے اعتبار کر سکتا ہوں۔ یہ کہہ کر اسے غداری کے جرم میں قتل کرا دیا اور غزنین کی حکومت شہزادہ جلال الدین کے سپرد کر دی۔ ۲
۲۔ابن اثیر: ج ۱۲، ص ۱۴۲۔ ۱۴۳۔ ابنِ خلدون: ج ۵، ص ۱۰۸۔
پہاڑی اضلاع کی تسخیر:
سلطان تکش نے وفات سے کچھ عرصہ پیشتر رہا، ہمدان اور باقی ملحقہ علاقوں کو فتح کر کے اپنی قلم رو میں شامل کر لیا تھا۔

جب تکش فوت ہو گیا اور علاء الدین سلاطین غور اور ترکانِ خطا کے خلاف لڑائیوں میں مصروف ہو گیا تو ایک ایک کر کے بہت سے اصلاع خوارزمی سلطنت سے علیحدہ ہو گئے۔ جہاں پہلوان، جو آدربائیجان کا اتابک رہ چکا تھا، اس کا ایک لڑکا مظفرالدین اوزبک، آذربائیجان، اران، اصفہان، رے اور ہمدان کا خود مختار حاکم بنا بیٹھا تھا۔ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ سلطان نے سلاطینِ غور کے جانشین کا صفایا کر کے اردگرد کی چھوٹی ریاستوں کوا پنی قلمرو میں مدغم کر لیا ہے تو وہ ہوا کے رخ کو سمجھ گئے اور اوزبک سے قطع تعلق کر کے علاء الدین کے نام پر خطبہ پڑھنا شروع کر دیا اور سلطان نے اغلش نامی ایک سردار کو آذربائیجان اور اس کے نواح کا حاکم مقرر کر دیا۔

اسی دوران میں اغلمش خلیفہ کے اکسانے پر فدائیوں کے ہاتھوں مارا گیا تو اوزبک کو پھر سے قسمت آزمائی کا خیال آیا۔ اسی خیال نے ایک اور طالع آزما کے دل میں بھی، جس کا نام مدین زنگی تھااور شیراز کا حاکم تھا، جنم لیا۔ چنانچہ اول الذکر نے اصفہان پر اور ثانی الذکر نے رے، قزوین اور سمنان پر قبضہ کر لیا۔
جب یہ خبر سلطان تک پہنچی تو وہ سمرقند کے مقام پر پڑاؤ کیے ہوئے تھا۔

فوراً ایک لاکھ کا جرار لشکر لے کر ادھر کو روانہ ہوا۔ جب قومس کے مقام پر پہنچا تو بارہ ہزار تجربہ کار بہادروں کی ایک فوج لے کر اس پر حملہ آور ہوا۔ اتابک کی فواج وہاں موجود تھیں۔ جب سلطانی لشکر سے مٹھ بھیڑ ہوئی تو وہ یہ خیال کر کے کہ یہ افواج اوزبک مظفرالدین بن جہاں پہلوانی کی ہیں، ایسا جی توڑ کر لڑیں کہ سلطان لشکر کی ایک نہ چلنے دی۔

قریب تھا کہ سلطانی افواج کے پاؤں اکھڑ جائیں کہ خوارزم شاہ نے خطرے کو بھانپ کر حکم دیا کہ سلطانی چتر سر پر تان دیا جائے۔ چتر کے کھلنے کی دیر تھی کہ اتابک پر یہ حقیقت آشکارا ہو گئی کہ اس کا مقابلہ تو خوارزم شاہی افواج سے ہے۔ چنانچہ ایسا بدحواس ہوا کہ گھبراہٹ سے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور پکڑا گیا۔ جب سلطان کے سامنے پیش ہوا اور غلط فہمی کی بنا پر جو تقصیر اس سے سرزد ہوئی تھی، اس کی معافی مانگی تو سلطان نے درگزر سے کام لیا۔

جب اتابک کے بیٹے نصرة الدین ابوبکر کو باپ کی ناجواں مردی کا علم ہوا تو اس نے اپنی جانشینی کا اعلان کر کے باپ کو معزول کر دیا اور اتابک کا لقب اختیار کر کے خود مختاری کا اعلان کر دیا اور شیراز کے دروازے بند کر کے محصور ہو گیا۔ سلطان نے سعد بن زنگی سے وفاداری کا عہد لے کر بیٹے کے مقابلے کے لیے روانہ کیا۔ ابوبکر دروازے بند کیے اطمینان سے بیٹھا تھا۔

ور چند سعد نے اسے سمجھانے کی کوشش کی لیکن اس نیسنی ان سنی ایک کر دی۔ حسام الدین تکش باش، سعد کا ایک وفادار سردار بھی محصور بن میں تھا۔ اس نے ایک دن دروازے کھول دیے۔ ابو بکر کو اطلاع ہوئی تو تلوار سے باپ پر وار کیا جو اوچھا پڑا اور اتابک نے اسے گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔۱
۱۔ ابن خلدون: ج ۵، ص ۱۰۹۔
مظفرالدین اوزبک بن جہان پہلوان اصفہان میں تھا کہ اسے اتابک کی شکست کی خبر ملی۔

چونکہ وہ خوارزم شاہ کا مقابلہ کرنے کی ہمت نہیں رکھتا تھا اس لیے سخت گھبرایا۔ اپنے وزیر ربیب الدین کو سلطان کی خدمت میں عفو تقصیر کے لیے روانہ کیا اور خود دو سو چیدہ بہادروں کا ایک دستہ لے کرآذربائیجان روانہ ہو گیا۔ اوزبک کا لشکر اور خزانہ نصرة الدین محمد بن بشکین کی تحویل میں تھا۔ ایک رات کو اچانک سلطان کے سردار نے، جس کا نام امیر دکجک تھا، شبخوں مارا اور تمام خزائن اڑا لے گیا۔

ربیب الدین کو بھی، جو اوزبک کی طرف سے سلطان کی خدمت میں عفو تقصیر کے لیے جا رہا تھا، پکڑ لیا۔ ہرچند اس نے اپنے سفر کے اصل مقصد کے بارے میں بہت کچھ کہا سنا لیکن کسی نے اس کی بات پر کان نہ دھرا۔
اسی دوران میں خوارزم شاہ نے اپنے ایک سردار نصیرالدین دولت یر کو آذربائیجان میں اوزبک کو راہ واست پر لانے کے لیے بھیجا۔ اس نے سلطان کی فرماں برداری قبول کر کے وفاداری کا وعدہ کیا اور تمام قلمرو میں سلطان کے نام پر خطبہ پڑھنے کے احکام جاری کر دیے۔

علاوہ ازیں قزوین کا علامہ سلطان کے آدمیوں کے حوالے کر دیا۔
سلطان کا ارادہ تھا کہ کچھ رقم بطور سالانہ خراج کے بھی مقرر کر دی جائے لیکن اوزبک نے درخواست کی کہ چونکہ گرمی حملہ آور وقتاً فوقتاً اس علاقے پر تاخت و تاراج کرتے رہتے ہیں اس لیے سردست اس معاملہ کو ملتوی رکھا جائے۔ خوارزم شاہ نے اس درخواست کو پذیرائی بخشی اور گرجیوں کو متنہ کر یاد کہ چونکہ یہ اضلاع اب خوارزم شاہی قلمرو میں شامل ہو گئے ہیں اس لیے آئندہ لوٹ مار سے گریز کیا جائے۔

اس مہم کی کامایابی سے تمام کوہی اصلاع مثلاً شادرہ، جرجان، ابہار، ہمدان، قم، اصفہان اور کشن وغیرہ خوارزم شاہی سلطنت کا حصہ۱ بن گئے۔
۱۔ جہانکشا: ج ۲ ص ۸۵۔ ۹۵
شاش، فرغانہ، امہان اور کاشان کی تباہی و بربادی:
چینی ترکستان کا حاکم بھی جس کا نام کشلی خاں تھا، ترکانِ خطا کی دست درازیوں سے بہت تنگ تھا۔ جب اسے معلوم ہوا کہ سلطان علاء الدین کے ہاتھوں خطائیوں کو سخت ہزیمت اٹھانا پڑی اور بخارا اور سمرقند جیسے شہر ان کے ہاتھوں سے نکل گئے ہیں تو اس نے سوچا کہ ترکانِ خطا سے بدلہ لینے کا موزوں تریں وقت آ گیا ہے۔

اس نے سلطان کو لکھا کہ اگر آپ اس موقع پر ترکانِ خطا کے خلاف میری امداد کریں تو مفتوحہ علاقے سے نصف حصہ آپ کو دے دیا جائے گا۔ ادھر جب ترکانِ خطا کو کشلی خاں کے ارادے کا علم ہوا تو انہوں نے بھی سلطان نے سے امداد کی درخواست کی اور بطور خراج کے ایک بھاری رقم ادا کرنے کا وعدہ کیا۔ خوارزم شاہ نے چپکے چپکے دونوں سے امداد کا وعدہ کر لیا اور فوج لے کر ادھر کو چل دیا جہاں دونوں فوجیں ایک دوسرے کے خلاف صف آرا تھیں۔

کچھ دنوں تک دونوں مخالف فریق سلطان کی امداد کا انتظار کرتے رہے کہ وہ ان میں شامل ہو تو جنگ شروع کی جائے کیونکہ دونوں فریق اپنی جگہ یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ سلطان ان کی امداد کے لیے آیا ہے۔ لیکن سلطان کے توقف کی وجہ یہ تھی کہ وہ فیصلہ ہی نہیں کر پایا تھا کہ کس کا ساتھ دے۔ چونکہ ہر دو فریق جلد از جلد ایک دوسرے سے نبٹ لینا چاہت تھے، اس لیے بلا مزید توقف وہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہو گئے۔

جب سلطان نے دیکھا کہ کشلی خاں نے میدان مار لیا ہے اور گور خاں کی فوج کے پاؤں اکھڑنے کو ہیں تو وہ کشلی خاں کی طرف سے میدان میں اتر پڑا۔ ترکانِ خطا کو شکست ہوئی اور گور خاں گرفتار ہو گیا۔ چونکہ سلطانی افواج نے کشلی خاں کی طرف سے جنگ میں شرکت کی تھی اس لیے خوارزم شاہ نے مفتوحہ علاقے میں سے اپنا حصہ طلب کیا۔ کشلی خاں پر سلطان کی اس چال کا مطلب اب واضح ہو چکا تھا اس لیے اس نے بڑی سختی سے انکار کر دیا۔

چونکہ سلطان اس وقت الجھنے کے لیے تیار نہ تھا اس لیے خاموش ہو رہا۔ لیکن چونکہ سلطان نے کشلی خاں سے بدترین قسم کی بدعہدی کا ارتکاب کیا تھا اور اسے ڈر تھا کہ میادا کشلی خان کسی وقت اس حرکت کا انتقام لے اس لیے اس نے حکم دیا کہ فرغانہ، شاش اور کلشان کے تمام باشندے اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر جنوبی اضلاع کو ہجرت کر جائیں۔ اس کے بعد حکم ہوا کہ ان اضلاع کو مکمل طور پر تباہ و برباد کر دیا جائے گا تاکہ دشمن کو ان علاقوں پر حملہ کرنے کا خیال ہی نہ پیدا ہو۔

جہاں پر یہ ذکر کرنا بے محل نہ ہو گا کہ یہ اصلاع سرسبزی اور آبادانی کے لحاظ سے بہترین شمار ہوتے تھے۔ ابھی سلطان اسی نواح میں موجود تھا کہ خوارزم شاہی اور کشلی خاں کی افواج کے درمیان جنگ چاول شروع ہو گئی جس سے رہی سہی کسر نکل گئی۔ چنانچہ خوارزم شاہ اس مصروفیت کی وجہ سے وہاں ۶۰۸ھ/۱۲۱۱ع سے ۶۱۱ھ۱۲۱۴ع تک رکا رہا۔۱
۱۔ابن خلدون:ج ۵، ص ۱۰۶۔

۱۰۷
اس مہم سے فراغت کے بعد جب سلطان دارالسلطنت میں واپس پہنچا تو اس نے حکم دیا کہ شاہی قلعے کے دروازے پر پانچ کی بجائے صرف دو دفعہ نوبت بجائی جائے یعنی طلوعِ آفتاب سے پہلے اور غروب آفتاب کے بعد۔ اس طریق کار کو نوبت سکندری کہتے تھے۔ سونے کے ستائیس نقارے تھے جو ستائیس معزز آدمی بجاتے تھے۔ ان میں وہ شاہزادے بھی شامل تھے جن کی ریاستیں سلطان نے فتح کر کے اپنی قلمرو میں شامل کر لی تھیں۔ ۲
۲۔السیرة لجلال الدین: ص ۱۲۔








SHARE THIS

Author:

urdufundastory.blogspot.com is the first of its kind of trendsetting venture existent in Pakistan. It is for the first time in the history of this nation that a large scale project of such nature, evolved from an extraordinarily revolutionizing concept to a practical fulfillment.

0 Comments: