Wednesday, July 14, 2021

قسط نمبر 20 - سلطان جلال الدین محمد خوارزم شاہ منبکرنی - شیخ محمد حیات

Molana-620x410


خوارم شاہی خاندان کے عروج کے اسباب:
اس خاندان کے بانی انوشتگین اور اس کے بیٹے قطب الدین کو کبھی بھول کر بھی یہ خیال نہ آیا ہو گا کہ صرف چند پشتوں کے بعد ان کا ایک جانشین عالمِ اسلام کا سب سے بڑا فرماں روا بن جائے گا اور اس کی حدودِ سلطانت دریائے سیحوں سے لے کر دریائے سندھ کے اس بار تک پھیل جائیں گی۔ اور جس کی ہیبت و جبروت کا یہ عالم ہو گا کہ اس کا نام سن کر خلیفہ بغداد بھی لرزہ براندام ہو جایا کرے گا۔

اتسز پہلا خوارزم شاہ ہے جس کے دل میں اول اول آزادی کا خیال پیدا ہوا۔ اور ہر چند اس عظیم مقصد کے حصول میں اسے جانکاہ مصائب کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس نے ہرگز بہ طیب، خاطر سلطان سنجر کی اطاعت کی ہامی نہ بھری۔ 
سنجر کی وفات کے بعد اس خاندان میں نہ کوئی دوسرا طغرل پیدا ہو سکا، نہ سلجر۔

لازماً خوارزم شاہیوں کی بن آئی، جن میں جوش تھا اور حکمرانی کا ولولہ تلوار میں کاٹ تھی تو بازوؤں میں سکت۔

چنانچہ دیکھتے ہی دیکھتے اگر ایک خاندان جوش کردار سے برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرنے لگا تو دوسرا کم کوئی اور سہل انگاری سے اسی رفتار سے ذلت اور ہستی کی گہرائیوں میں گرتا چلا گیا۔ غوری بھائیوں کی وفات کے بعد ان کی سلطنت بھی اسی حادثے سے دور چار تھی۔ ان عظیم بھائیوں کے جانشین حد درجہ نا اہل اور بودے تھے۔ جوش، ولولہ اور وصلہ ناپید تھا۔

سلطنت کسی کی وراثت نہیں۔ با جبروت سلاطین کے ولی عہدوں میں بھی جب جوشِ عمل اور جذبے کی کمی ہو جائے تو خدا کا یہ عظیم انعام ایسے نا اہلوں سے منہ موڑ لیتا ہے۔ یہی حالت یہاں پیش آئی۔ چنانچہ یہ خاندان بھی ختم ہو گیا اور قرب و جوار کے تمام علاقے پر خوارزم شاہ قابض ہو گئے۔
تیسری حکومت ترکانِ خطا کی تھی۔ یہ لوگ مذہباً عیسائی تھے لیکن ایک وقت ایسا بھی تھا کہ آس پاس کی تمام مسلم حکومتیں مع سلجوقیوں کے ان کی باج گزار تھیں اور عوام و خواص ان کی ہیبت و شوکت سے لرزہ براندام رہتے تھے۔

اور جس حکمران کو ان کی حمایت حاصل ہو جاتی، کوئی دوسرا اس سے ٹکر لینے کی جسارت نہ کر سکتا تھا۔ تکش کو سلطان شاہ کے خلاف انہی کے بھروسے پر فتح حاصل ہوئی تھی۔ تکش زندگی بھر خراج ادا کرتا رہا اور جب فوت ہوا تو اس نے سلطان محمد کو وصیت کی کہ ترکانِ خطا کے ساتھ تعلقات کو ہمیشہ ہموار رکھنے کی کوشش کرے اور ادائیگی خراج میں قطعاً تساہل نہ کرے۔

 لیکن اب ان لوگوں کی ہوا بھی اکھڑ چکی تھی اور جوں جوں خوارزم شاہیوں کا حلقہٴ اقتدار وسیع ہوتا جاتا تھا، ان کی حدودِ سلطنت اور دائرئہ ائر گھٹتا جاتا تھا۔ تاآنکہ سلطان محمد نے یکے بعد دیگرے ان پر چڑھائی کر کے اس جھگڑے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ ان تاریخی واقعات کے مطالعے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ جس رفتار سے یہ ہمسایہ سلطنتیں رو بہ زوال ہو رہی تھیں، اسی نسبت سے خوارزم شاہی سلطنت دنیا کے نقشے پر ابھر رہی تھی۔

گویا ایک کا عروج دوسروں کا زوال تھا یا دوسروں کا زوال اول الذکر کا عروج: ”وتلک الایام ندالہا بن الناس۔“
ایک دوسری وجہ، جو اس سے کم تر اہم نہیں، یہ تھی کہ قبچاقی ترکوں کی ایک بہت بڑی تعداد سلطان تکش کے عہد سے خوارزم شاہی فوج میں بھرتی ہو گئی تھی جو بڑے بہادر، من چلے اور وفادار تھے۔ لڑنا مرنا ان کا مشغلہ تھا۔ یہ سلطان تکش کے برادرانِ نسبتی تھے، کیونکہ سلطان نے اس قبیلے کے سردار کی ایک بیٹی سے، جس کا نام ترکان خاتون تھا، شادی کر لی۔

ملکہ بڑی مدبر، حوصلہ مند اور بااثر خاتون تھی۔ قبچاقی سپاہی اس پر جان نچھاور کرتے تھے اور دشمن کے مقابلے میں سر دھڑ کی بازی لگا دیتے تھے اور ملکہ کے ناموس کی خاطر یوں جان توڑ کر لڑتے کے فتح قدموں میں لوٹتی۔ یہ انہی بہادروں کی جاں نثاری کا طفیل تھا کہ تمام چھوٹی بڑی ریاستیں دم توڑ کر رہ گئی تھیں۔
خوارزم شاہیوں کے زوال کے اسباب:
سلطان تکش کی وفات کے بعد، جب یکے بعد دیگرے تین سلطنتیں خوارزم شاہی قلم رومیں شامل کر لی گئیں تو حدودِ سلطنت کی بے پناہ وسعت نے کئی انتظامی مسائل پیدا کر دیے۔

سیحوں کے مغربی کنارے سے لے کر سندھ کے صحراؤں تک پھیلی ہوئی سلطنت کا نظم و نسق حد درجہ بیدار مغزی کا متقاضی تھا۔ رسل و رسائل کے ذرائع بالکل ابتدائی صورت میں تھے جو گڑ بڑ اور بدنظمی کی حالت میں چنداں مفید ثابت نہیں ہوتے تھے۔ دور دراز کے علاقے مرکز کی ہر گرفت سے آزاد تھے۔
 صوبوں کے حاکم اور باج گزار ریاستیں جب بھی حالات کو سازگار پاتیں، مرکز کا جوا گردن سے اتار پھینکتیں اور جتنے عرصے میں بہ خیر مرکز تک پہنچتی، حالات قابو سے باہر ہو چکے ہوتے۔

عہدِ حاضر کی طرح دیوانی اور فوجی محکمے جدا جدا نہ تھے۔ جہاں فوج متعین ہوتی، وہاں کے نظم و نسق کی ذمہ داری اسی کی تحویل میں ہوتی۔ جب فوج کا سردار کسی مہم پر روانہ ہوتا، انتظامیہ تقریباً معطل ہو کر رہ جاتی اور مفسدہ پرداروں کو کھل کھیلتے کا موقع مل جاتا۔ اس طرح مرکز دن رات چھوٹی چھوٹی بغاوتوں پر قابو پانے اور مٹانے میں مصروف رہتا اور کمزور ہوتا رہتا۔

خوارزم شاہی قلم رو کی وسعت بھی اس امر کی متقاضی تھی کہ دور دراز کے علاقوں میں نظم و نسق کی حالت سقیم رہے اور مرکز پر کوئی افتاد پڑے تو ہاتھ پاؤں شل ہو کر رہ جائیں۔
جب چنگیز خاں نے خوارزم شاہ کے خلاف چڑھائی کی اور مرکز نے سوے فہم سے خود کو بے بس محسوس کیا تو تمام قلم رو کی قوت مدافعت یک قلم ختم ہو گئی اور عظیم الشان محل دیکھتے دیکھتے زمین بوس ہو گیا۔

ہم بیان کر چکے ہیں کہ سلطان تکش نے قبچاقی ترکوں کے سردار کی بیٹی سے، جس کا نام ترکان خاتون تھا، شادی کر لی تھی۔ چونکہ یہ لوگ بڑے بہادر اور من چلے سپاہی تھے اور سلطان کی تمام فتوحات انہی کی جاں بازی کا نتیجہ تھیں، اس لیے ترکان خاتون تمام قلم رو پر چھائی ہوئی تھی۔ سلطان کے مقابلے میں اس کا اپنا علیحدہ دربار تھا، درباری تھے، احکام تھے، فزامین تھے۔

یعنی وہ سب کچھ تھا جو لوازماتِ حکومت میں شمار ہوتا ہے۔ اگر کبھی کوئی ایسا حکم صادر ہو جاتا جو سلطان کے حکم سے متصادم ہوتا تو سلطان کا حکم منسوسخ متصور ہوتا۔ سلطان تکش کی وفات کے بعد بھی ترکان خاتون کی خود سری میں کوئی فرق نہ آیا۔ سلطان محمد دل سے چاہتا تھا کہ کسی طرح ترکان خاتون کی سرگرمیوں اور کوئی قدغن لگا سکے، لیکن اسے ہر دفعہ ناکامی ہوتی۔

ترکان خاتون کی ایک آواز ہر تمام قبچاقی ترکوں کی تلواریں نیاموں سے باہر نکل آتیں اور سلطان جھینپ کر خاموش ہو جاتا۔ اس دو عملی سے حکومت کو نقصان پہنچتا اور سلطان کی حیثیت مخدوش ہو جاتی۔ ایسی مثالیں بھی کم یاب نہیں کہ ایک امیر سلطان کے دربار سے مقہور ہو کر ملکہ کے دربار میں مقبول ہو جاتا اور اس طرح ایک ہی ملک کے دو درباروں میں سخت رقابت پیدا ہو جاتی۔

جس مہم میں دو دل ہم نوا نہ ہوں، زبانوں اور ہاتھوں کی ہم نوائی کبھی سودمند ثابت نہیں ہوتی۔ دلوں میں نفاق ہو تو زبانوں پر تلخی آئے بغیر نہیں رہ سکتی۔
غایر خاں اپنا جق، اترار کا وہ کم بخت اور کم فیہم حاکم جس کے احمقانہ فعل نے چنگیز خاں کو سلطان کے خلاف چڑھائی پر مجبور کر دیا تھا، علاؤالدین محمد کا حقیقی ماموں تھا۔ جب چنگیز خاں نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو سلطان نے صاف انکار کر دیا کیونکہ اگر سلطان یہ حرکت کر بیٹھتا تو ترکان خاتون اور قبچاقی اس کی زندگی حرام کر دیتے۔

اگر غایر خان سلطان کے ننھیال سے تعلق نہ رکھتا ہوتا تو ممکن ہے کہ سلطان چنگیز خاں سے بگاڑ پر آمادہ نہ ہوتا اور اس طرح عالمِ اسلام ایک مصیبت عظمیٰ سے بچ جاتا۔
ترکانِ خطا کی ریاست کہ اخلاط جس کا دارالسلطنت تھا، سلطان اور چنگیز خاں کی سلطنتوں کے درمیان فاصل ریاست کی حیثیت رکھتی تھی جس کا وجود سلطان کے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ سے کم نہ تھا۔

اگر سلطان نے ترکانِ خطا پر حملہ کرنے سے پہلے اس کی مالہ اور ماعلیہ پر غور کر لیا ہوتا تو اخلاط پر حملہ کر کے خواہ مخواہ مصائب کو دعوت نہ دیتا۔ کہتے ہیں کہ جب سلطان نے ترکانِ خطا کی شکست کے بعد فتح کا جشن منایا اور تمام قلم رو میں چراغاں کیا تو ان ایام میں ایک شخص ایسا بھی دیکھا گیا جو سلطان کی کوتاہ اندیشی پر آنسو بہا رہا تھا اور خوارزم شاہ کے اس فعل سے حد درجہ ناخوش تھا۔

کیونکہ وہ جانتا تھا کہ وحشی مغلوں کی ہمسائیگی سے کیسے خطرناک نتائج مرتب ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ یہ چند سالوں کے بعد ہی لوگوں نے دیکھ لیا کہ ایک گوشہ نشین درویش کی پیش پیش کتنی درست تھی۔
جب سے اس خاندان کو عروج حاصل ہونا شروع ہوا تھا، بدعہدی اور دوسروں کے حقوق سے علم مبالات ان کی روایت بن گئی تھی۔ اپنی بات کا پاس نہ رکھنا اور وعدہ کر کے توڑ دینا ان کا روز مرہ کا معمول تھا۔

ہوسِ اقتدار کا یہ عالم تھا کہ قرب و جوار کی کوئی حکومت ان سے مطمئن نہ تھی۔ جہاں چاہتے اور جب چاہتے چڑھائی کر دیتے۔ چنانچہ کمزور حکومتوں کو سر اطاعت ختم کیے بغیر چارہ نہ تھا۔ کسی اور کا تو کیا ذکر ،خود خلیفہ بغداد بھی سلطان کے عتاب سے نہ بچ سکا۔ اس عام ناراضگی سے سلطان لوگوں کی ہمدردی کھو بیٹھا اور چونکہ یہ حکمران براہِ راست سلطان کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکتے تھے اس لیے انہوں نے خفیہ طور پر چنگیز خاں سے خط و کتابت شروع کر دی اور اسے سلطان کے خلاف اکسایا۔

چنگیز خاں بھی سلطان کی دست درازیوں سے سہا ہوا تھا اور اس کی متواتر فتوحات کو دیکھ دیکھ کر متامل سا رہنے لگا تھا۔ لیکن جب تمام مسلمان اور خود خلیفہ بغداد کی طرف سے اسے متواتر ترغیبات موصول ہونے لگیں تو اس فکر میں پڑ گیا کہ سلطان پر حملہ آور ہونے کے لیے کوئی اخلاقی جواز تو ہو۔ چنانچہ یہ جواز سلطان کے بداندیش ماموں نے چار سو مسلمان تاجروں کو قتل کر کے خود پیدا کر دیا۔

ایسامعلوم ہوتا ہے کہ چنگیز خاں سلطان کی فتوحات سے متاثر ہو کر اس سے سفارتی اور تجارتی تعلقات پیدا کرنا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس غرض کے لیے مسلمان تاجروں کا قافلہ لاکھوں روپے کا سامان تجارت لے کر یہ مقام اترا، جہاں غایر خان حاکم تھا، وارد ہوا تھا۔ غایر خان بڑا لالچی اور حریص آدمی تھا۔ قیمتی مال و اسباب دیکھ کر منہ میں پانی بھر آیا۔

سلطان کو لکھا کہ مغلوں کا ہی جاسوس قافلہ تاجروں کے لباس میں اترار میں آیا ہوا ہے جس کا ارادہ ہے کہ تمام سلطنت کے طول و عرض میں گھوم پھر کر تجارت کے بہانے سے دریافتِ حالات کرے اور چنگیز خاں کو اطلاع دے۔ میں نہیں چاہتا کہ انہیں اندرونِ ملک آنے کی اجازت دی جائے، حاکم عالیٰ کا انتظار ہے۔ سلطان نے بلا تامل لکھ بھیجا کہ تمہیں اس معاملے میں پورا اختیار حاصل ہے، جو چاہو کرو۔

اس ظالم حکمران کو بہانہ چاہیے تھا، چار سو بے گناہ مسلمان تاجر قتل کر کے ان کا مال و متاع ضبط کر لیا۔ گویا اس بدبخت کے یہاں انسانی زندگی کی کوئی قدرو قیمت تھی، نہ احترام و منزلت۔ چنانچہ جب خود اس خاندان پر بن گئی تو کسی کا دل نہ پسیجا اور کسی کی زبان سے ہمدردی کا ایک لفظ تک نہ نکلا۔ خود غرضی اور بدعہدی نے ان کے اردگرد ایک ایسا حصار کھینچ دیا تھا کہ کوئی ان کے قریب پھٹکنا گوارا نہ کرتا تھا۔

جیسا کہ اس زمانے کا عام دستور تھا، سلطان کے دربار میں بھی ایک ماہر نجومی موجود رہتا جس سے ہر فوجی مہم شروع کرنے سے پہلے مشورہ لیا جاتا۔ وہ زائچہ بناتا، سیدھی ٹیڑھی لکیروں کا مطالعہ کرتا اور جو کچھ مناسب معلوم ہوتا اظہار رائے کرتا۔ اگر وہ کسی مہم میں شوکت سے منع کر دیتا تو سلطان کے لیے اس کام میں ہاتھ ڈالنا ناممکن ہو جاتا۔ جب چنگیز خاں حملہ آور ہوا تو سلطان نے حسب معمول درباری نجومی سے مشورہ کیا۔

اس نے کہا کہ سلطان کا ستارہ زوال میں ہے، اسے چاہیے کہ دو سال تک دشمن کا سامنا کرنے سے احتراز کرے۔ بس پھر کیا تھا، سلطان نے نجومی کے کہے کو پلے باندھ لیا۔ چنانچہ اس بھاگ ڈرد کا نتیجہ یہ نکلا کہ سلطان کی تمام قوتیں سلب ہو کر رہ گئیں۔ امرا اور اراکین ساتھ بھاگے پھرتے تھے اور شرم کے مارے پسینے میں ڈوب ڈوب جاتے تھے، لیکن سلطان تھا کہ مزاحمت اور مدافعت کا تصور بھی اس کے دل و دماغ سے غائب ہو چکا تھا۔

نامردی کے اس مظاہرے سے قبچاقی ترک سخت برہم ہوئے۔ بھاگنا اور دشمن کا مقابلہ نہ کرنا ان کی قومی روایات کے خلاف تھا۔ جب دیکھا کہ سلطان پر کسی بات کا اثر نہیں ہوتا اور وہ ان کی شان دار روایت کو اپنے بزدلانہ طرزِ عمل سے پامال کر رہا ہے تو بطور احتجاج سلطان کے لشکر سے علیحدہ ہو کر چنگیز کی فوج میں شامل ہو گئے اور ان کا یہ اقدام اونگھتے کوٹھیلتے کا بہانہ ثابت ہوا اور وہی لوگ جو سلطان کے دوست و بازو تھے، اس کی بے تدبیری سے اس کے خلاف صف آرا ہو گئے۔

جب سلطان محمد کی وفات کے بعد جلال الدین جانشین ہوا تو ابھی تک خوارزم پر مغلوں کا قبضہ نہیں ہونے پایا تھا۔ سلطان نے باپ کی تجہیز و تکفین کے بعد خوارزم کا رخ کیا تاکہ دیکھے کہ آیا دارالسلطنت کو بچانے کی کوئی صورت نکل سکتی ہے۔ سلطان کے دو چھوٹے بھائی آف سلطان اور ارزلاق بھی وہیں قیام پذیر تھے۔ چند روزہ قیام کے دوران سلطان کو معلوم ہو گیا کہ اس کے بھائی اور بعض امرا اس کے خلاف سازش میں مصروف ہیں اور چونکہ لوگوں کے دل و دماغ پر مغلوں کا ڈر مسلط ہو گیا ہے اس لیے سردست مزاحمت کی کوئی تدبیر کارگر نہیں ہو سکتی۔

چنانچہ سلطان وہاں سے غزنی کو روانہ ہو گیا اور وہاں دو چار دن ٹھہرنے کے بعد ہندوستان کو چل دیا۔ جب دو سال کے قیام کے بعد واپس آیا تو سیدھا آذربائجان جا پہنچا۔ یہاں سلطان کا پہلا وار اوزبک حاکم آذربائیجان پر پڑا اور آہستہ آہستہ قرب و جوار کے علاقے فتح ہوتے چلے گئے۔ گویا سلطان نے اپنے باپ کی بربادی سے کوئی سبق نہیں سیکھا تھا، اور جونہی موقع ملا، بجائے اس کے کہ مغلوں کے خلاف صف ارا ہوتا، اپنوں پر ٹوٹ پڑا۔ نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات: جو حشر باپ کا ہوا تھا، بیٹے کا انجام اس بے بھی بدتر ہوا۔ حیف ہے کہ سلطان کی مومنانہ فراست اس کے کام نہ آ سکی۔









SHARE THIS

Author:

urdufundastory.blogspot.com is the first of its kind of trendsetting venture existent in Pakistan. It is for the first time in the history of this nation that a large scale project of such nature, evolved from an extraordinarily revolutionizing concept to a practical fulfillment.

0 Comments: