Wednesday, July 14, 2021

قسط نمبر 16 - سلطان جلال الدین محمد خوارزم شاہ منبکرنی - شیخ محمد حیات

Molana-620x410

 

دولت خوارز مشاہیہ(1157ء تا 1231ء)
سلجوقی عہد میں خوارزم شاہی حکمرانوں کی ایک نئی سلطنت قائم ہوئی۔ جو حقیقت میں سلجوقی حکمرانوں ہی کی شرمندہ احسان تھی۔ خوارزم شاہی خاندان کے کارنامے وسط ایشیاء کی تاریخ میں سنہری باب کا اضافہ کر چکے ہیں۔ اس کا بانی ایک ترک غلام نوشتگین تھا جو غزنی کا باشندہ تھا۔ ملک شاہ سلجوقی کا ساقی تھا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا قطب الدین محمد اسی طرح ملک شاہ کے بعد سلطان سنجر کا ساقی بنا۔

سلطان سنجر نے ساقی گری کی خدمات کے صلے میں قطب الدین کو خوارزم یا خیوا کی حکومت عطا کی۔ یہ جب کبھی سلطان سنجر کی خدمت میں حاضر ہوتا تو اپنے اسی شاہانہ لباس میں خدمت گاری کے تمام کام حسب دستور سابق انجام دیتا۔ یہ عرصہ دراز تک علاقہ خوارزم کا حاکم رہا اور خوارزم شاہ مشہور ہوا۔

اس کے بعد اس کی اولاد بھی اسی نام سے مشہور ہوئی۔

قطب الدین کے عہد میں چینی ترکستان کے علاقہ خطا کے قراخطائیوں نے اٹھ کر خوارزم پر حملہ کر دیا۔

قطب الدین نے ان کے مقابلے کیلئے کثیر فوج بھیجی لیکن شکست کھا کر سالانہ خراج ادا کرنے کی شرط پر قراخطائیوں سے صلح کر لی۔
قطب الدین 490ھ میں فوت ہوا۔ اس وقت اس کا بیٹا اتسز سنجر کے دربار میں ساقی بزرگ کے منصب پر فائز تھا۔ آخر وہ سلطان سنجر سے اجازت پاکر خوارزم آ گیا۔
اتسز بہت جاہ پسند شخص تھا۔ وہ محض خوارزم کی حکومت پر قناعت نہیں کرنا چاہتا تھا۔

چانچہ اس نے اپنے آقا اور محسن سلطان سنجر کے خلاف بغاوت کر دی۔ سنجر نے فوج کشی کی اور اتسز ایک قلعہ میں محصور ہو گیا۔ جس کا نام ”ہزار اسپ“ تھا۔ انوری اس وقت سلطان سنجر کے ہمراہ تھا۔ اس نے ایک رباعی کہی جس کو سنجر نے تیر پر لکھوا کر قلعے میں پھینکوا دیا۔ رباعی یہ ہے#
اے شاہ ہمہ ملک زمین حسب تر است
وز دولت و اقبال جہاں کسب تر است
امروز بیک حملہ ہزار اسپ بگیر !!
فردا خوارزم و صد ہزار اسپ تر است
وطواط اس وقت اتسز کے ساتھ قلعہ میں تھا۔

اس نے جواب میں فی البدیہ ذیل کا شعر کہا اور اسی طرح تیر پر لکھوا کر سلجوقیوں کی لشکر گاہ کی طرف پھینکوا دیا#
گر خصم تو اے شاہ شود رستم گرد
یک خرز ہزار اسپ نتوا نند برد
سلطان سنجر کو جب معلوم ہوا کہ وطواط نے یہ شعر لکھ کر پھینکوایا ہے تو اس نے کہا کہ جب قلعہ فتح ہو تو اس کے سات ٹکڑے کر دیئے جائیں۔ جب قلعہ فتح ہو گیا تو سب سے پہلے وطواط کی سرزنش کرنی چاہی لیکن وطواط کی حاضر جوابی یہاں بھی کام آئی۔

اس نے جواب دیا۔ میں اتنا نحیف و نزار ہوں کہ میرے سات ٹکڑے نہیں ہو سکیں گے۔ حکم دیا جائے کہ دو ٹکڑے کئے جائیں۔ بادشاہ اس کے جواب سے خوش ہوا اور آزاد کر دیا۔
اتسز شکست کھا کر فرار ہو گیا اور سنجر کا بھتیجا غیاث الدین سلیمان شاہ خوارزم کا حاکم مقرر ہوا۔ لیکن سنجر ابھی مرو ہی پہنچنے پایا تھا کہ اتسز واپس خوارزم آ گیا اور غیاث الدین کو شکست دے کر وہاں کی حکومت پھر سنبھالی۔

بعد میں قراخطائیوں کو ساتھ ملا لیا اور سنجر کو شکست دے کر اپنی آزاد خود مختار حکومت کا اعلان کر دیا۔
اتسز کے بعد اس کا بیٹا ارسلان شاہ تخت نشین ہوا۔ اس میں اور اس کے بھائی تکش خان میں عرصہ دراز تک لڑائیاں ہوتی رہیں۔ آخر تکش خان نے غالب ہو کر 1172ء میں تاج شاہی سر پر رکھا۔ اس نے طغرل ثالث سلجوقی کو قتل کرکے خراسان اور عراق پر قبضہ کر لیا۔

یہ حملہ اس نے عباسی خلیفہ الناصر کی شہ پر کیا تھا۔ اس کے بعد اس کا بیٹا علاؤ الدین محمد تخت پر بیٹھا۔
علاؤ الدین محمد 1200-20ء:
علاؤ الدین محمد جو تکش کا جانشین بنا نہایت جری ، حوصلہ مند اور علم نواز فرمانروا تھا۔ اس کی زندگی سنجر کی طرح مصائب سے بھری ہوئی تھی۔ اس نے اپنی سلطنت کو بہت وسعت دی۔ اس کی سلطنت کی حدیں ایک طرف ہندوستان اور بغداد اور دوسری طرف بحیرہ ارال اور خلیج فارس سے جا ملی تھیں۔

اس نے اپنی حدود کو چاروں طرف بڑھانے کیلئے شمال میں بلخ اور کرمان پر قبضہ کر لیا اور جنوب میں اس نے قراخطائی سے ٹکر لینے کی ٹھانی۔ کیونکہ اب وہ اس قدر طاقتور ہو گیا تھا لیکن پہلے حملے میں قراخطائیوں نے اسے زبردست شکست دی۔ اپنی شکست کا بدلہ لینے کیلئے علاؤ الدین اگلے سال عثمان سمرقند اور گچلق سے مدد لے کر قراخطائی سے مغربی صوبہ لینے میں کامیاب ہو گیا۔

1210ء میں اس نے سمرقند پر قبضہ کر لیا اور عثمان کو بغاوت کی پاداش میں قتل کر دیا اور سمرقند کو اپنا دارالخلافہ بنایا۔
غزنی اور غور پر قبضہ:
علاؤ الدین اپنی ان فتوحات پر قانع نہیں تھا۔ لہٰذا اس نے غوری سلطنت کے ہندوستانی صوبے نیز غزنی اور غور پر بھی قبضہ کر لیا لیکن خلیفہ الناصر نے غوری شہزادے کو لکھا کر قراخطائیوں سے مدد لے کر علاؤالدین کا مقابلہ کرے۔

خلیفہ سے مخالفت:
1216ء میں علاؤ الدین نے خوارزم (خیوا) میں ایک مجلس بلائی جس میں خلیفہ الناصر کے خلاف فتویٰ دیا کیونکہ اس نے دشمنان اسلام سے مسلمانوں کے خلاف دوستی کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ بیان کیا جاتا ہے کہ خلیفہ الناصر نے ایک شخص کا سرمنڈوا کر اس پر ایک خط چنگیز خان کے نام نقش کیا۔ یعنی جلد میں نوک نشتر سے گود کر سرمہ بھر دیا تھا۔

اس عجیب و غریب خط میں لکھا تھا کہ ”تم سلطان محمد پر حملہ کرو اور ہم کو اپنا ہمدرد تصور کرو۔“ اس طرح منڈے ہوئے سر پر جب خط لکھا گیا تو چند روز انتظار کے بعد سر پر بال اگ آئے اور اس شخص کو چنگیز خان کی طرف روانہ کر دیا گیا۔ جب وہ شخص چنگیز خان کے پاس پہنچا تو اس نے کہا کہ میں خلیفہ کا ایلچی ہوں اور خلیفہ کاپیغام میرے پر منقوش ہے۔ میرے سر کے بال منڈوا دو اور خلیفہ کا پیغام پڑھ لو۔

چنانچہ اس کا سر منڈوا کر خلیفہ کا پیغام پڑھا گیا۔ لیکن چنگیز خان نے ایلچی سے معذرت کی کہ وہ بلاوجہ جنگ نہیں کر سکتا۔
جب خوارزم شاہ کو خلیفہ کی اس سازش کا پتہ چلا تو اس نے خلافت بغداد کے انہدام و بربادی کا پختہ ارادہ کر لیا۔ وہ اس وقت براعظم ایشیاء میں سب سے زیادہ طاقتور اور زبردست مسلمان بادشاہ سمجھا جاتا تھا۔ عباسی خلیفہ ناصر اور خوارزم شاہ کے درمیان ناچاقی نے یہاں تک نوبت پہنچائی کہ خوارزم شاہ نے بغداد پر چڑھائی کا ارادہ کر لیا اور خلیفہ کی جگہ اپنے پیر کو خلیفتہ المسلمین بنا دیا۔

شیخ شہاب الدین سہروردی، کی دربار میں آمد:
جب خوارزم شاہ نے چڑھائی کا ارادہ کیا تو خلیفہ نے حضرت شیخ شہاب الدین سہروردی، کو خوارزم شاہ کی خدمت میں سفیر بنا کر بھیجا۔ شیخ ممدوح نے سلطان کے دربار میں پہنچ کر مناسب تقریر کی اور بغداد پر چڑھائی کرنے سے باز رہنے کی نصیحت کی۔ خوارزم شاہ نے کہا کہ آپ بے حد عباسیوں کے مداح اور خیر خواہ ہیں۔

لہٰذا آپ بغداد کو واپس تشریف لے جایئے اور میں ضرور بغداد پر چڑھائی کروں گا۔
خوارزم کیلئے تین بزرگوں کی بددعا:
جب شیخ وہاں سے ناکام واپس ہوئے تو خوارزم شاہ کیلئے بددعا کی کہ ”الٰہی اس پر ظالموں کو مسلط کر۔“ خوارزم شاہ نے فوج لے کر کوچ کیا مگر راستے میں اس قدر برف باری ہوئی کہ فوج کا راستہ بند ہو گیا اور سخت مجبوری کے عالم میں خوارزم شاہ نے چڑھائی کو دوسرے سال پر ملتوی کر دیا اور راستہ ہی سے لوٹ گیا۔

اتفاقاً ایک روز بدمستی میں حکم دیا کہ حضرت شیخ مجد الدین، کو قتل کر دو۔ چنانچہ وہ شہید کر دیئے گئے۔ اگلے دن جب ہوش آیا تو اپنی اس حرکت پر پشیمان ہو کر خون بہا حضرت شیخ نجم الدین کبریٰ کی خدمت میں بھیجا انہوں نے فرمایا کہ شیخ شہید کا خون بہا تو میرا اور تیرا سر اور ساتھ ہزار ہا مسلمانوں کے سر اس خو بہا میں کاٹے جائیں گے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ ان بزرگوں کی بددعاؤں کا نتیجہ تھا کہ خوارزم شاہ پر آفت نازل ہو گئی۔
اس کے بعد خوارزم شاہ ان فتوحات کو زیادہ دیر قائم نہ رکھ سکا کیونکہ ایک نئی طاقت نے اس کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا دیا۔










SHARE THIS

Author:

urdufundastory.blogspot.com is the first of its kind of trendsetting venture existent in Pakistan. It is for the first time in the history of this nation that a large scale project of such nature, evolved from an extraordinarily revolutionizing concept to a practical fulfillment.

0 Comments: